28 مئی 2012 - 19:30

بحرینی عوام انقلاب کرامت کی شمع نہیں بجھنے دیں گے/ خلیفی عدالت کا انقلابی راہنماؤں پر مقدمہ / آل خلیفہ نے نبیل رجب کو ضمانت پر رہا کردیا /بحرین میں انسانی حقوق کی پامالی؛ خلیفی وزراء جھوٹے ہیں / عبدالہادی الخواجہ نے بھوک ہڑتال ختم کردی / ــ بحرینیوں کا مطالبہ؛ قانون، منتخب پارلیمان اور منتخب حکومت۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت "جمعیۃالوفاق الاسلامی الوطنی" کی شوری کے سربراہ نے آل خلیفہ حکومت کے خلاف مسلسل عوامی جدوجہد اور جاری احتجاجی تحریک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بحرین کے اندر بھی اور دنیا کی سطح پر بھی بہت سوں کو امید ہے کہ بحرینی قوم کا انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔ جمیل کاظم نے کہا: بحرین میں "قید و بند کو توڑ دو" کے عنوان سے احتجاجی اقدامات عمل میں لائے گئے اور شرکاء نے 15 سالہ بچوں کو سزائیں سنائے جانے کے خلیفی اقدام کی مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ اس احتجاجی اقدام کے دوران آل خلیفہ کے اس دعوے کی مذمت کی گئی کہ گذشتہ سال قطر میں ایک گروہ کو پکڑا گیا جو کسی دوسرے ملک میں تربیت حاصل کرنے جارہا تھا تاکہ بحرین واپس آکر بحرین کو سعودی عرب سے ملانے والے پل "جسر الفہد" کو دھماکے سے تباہ کردے۔عجب ہے آمریت جس میں عقل و فہم و شعور کو وقعت ہی نہیں دی جاتی ورنہ اگر مان بھی لیا جائے کہ اس گروہ کے افراد یہ الزام درست ہے کہ "وہ کسی ملک کی طرف جار ہے تھے"، "وہ وہاں فوجی تربیت حاصل کرنا چاہتے تھے"، "وہ واپس آتے تو جسر الفہد کو منہدم کرنے کی کوشش کرتے"، تو کسی قانون میں ان کے لئے کوئی سزا مقرر نہیں ہے کیونکہ ان سے کوئی اقدام سرزد ہی نہیں ہوا ہے لیکن آمریت اور استبداد کی منطق استبداد اور اپنے آپ کو حق کا معیار سمجھنے سے عبارت ہے چنانچہ اس منطق کے مطابق شاید خلیفی سعودی یا قطری اقدامات درست ہوں ...جمیل کاظم نے کہا: بوکھلائی ہوئی خلیفی حکومت نے اس گروہ پر دوسرے الزامات بھی لگائے لیکن نہ تو مذکورہ بالا الزامات درست ہيں اور نہ ہی دوسرے الزامات درست ہیں اور جیسا کہ بسیونی کی رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا ہے جن لوگوں پر ان کے اعترافات کی بنیاد پر مقدمہ چلایا گیا ہے ان سے ٹارچر اور تشدد کے ذریعے اعترافات لئے گئے ہيں اور یہ اعترافات قانونی اعتبار سے باطل ہیں۔ انھوں نے کہا: جنیوا میں انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس کی رپورٹ میں ان مسائل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا: بحرینی سیاستدان، قانوندان، انسانی حقوق کے علمبردار بحرینی راہنما اور بحرینی انقلابی ملک کے اندر بھی اور باہر کی دنیا میں بھی کوشش کررہے ہيں کہ انقلاب بحرین کی شمع روشن رہے۔ــ بحرین: خلیفی عدالت کا انقلابی راہنماؤں پر مقدمہ بحرین کے جمہوری فورم کے نائب سربراہ "محمد جاسم الدرازی" نے آل خلیفہ کی عدالت کی طرف سے علی المشیمع، عبدالرؤف الشائب، علی المسترشد، احمد محمد الصالح، عماد یسین اور محمد سہوان کو پندرہ پندرہ سال کی قید کی سزا کے حکم کو ظالمانہ قرار دیا اور کہا کہ ان ظالمانہ فیصلوں کا مقصد بحرینی عوام کے انقلاب کو ناکام بنانا ہے لیکن خلیفی مظالم کے باوجود عوامی احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ خلیفی عدالت نے حال ہی میں چھ افراد پر اس بہانے مقدمہ چلایا کہ "وہ ملک میں تخریب کاری کی منصوبہ بندی کررہے تھے" اور ہر فرد کو 15 سال قید کی سزا سنائی جبکہ خلیفی بادشاہ کے مقرر کردہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے کہا ہے کہ بحرین میں چلائے گئے تمام مقدمات باطل ہیں کیونکہ ان افراد سے تشدد کے ذریعے اعترافات لئے گئے ہیں۔انھوں نے کہا: نام نہاد عدالت میں سو صفحات پر مشتمل دستاویزی رپورٹ موجود ہے جن متعدد بار ثابت کیا جاچکا ہے کہ شیخ علی المسترشد کو شدید ٹارچر کے ذریعے اعتراف کرنے پر مجبور کیا گیا ہے جبکہ محمد سہوان کو قطر کی آل ثانی حکومت نے شدید ٹارچر اور غیرانسانی تشدد کا نسانہ بنا کر ان سے اپنی مرضی کے اعترافات کرائے گئے ہيں۔ الدرازی نے کہا کہ جمعیت عمل الاسلامی کے راہنماؤں اور نامور قانوندان ڈاکٹر نبیل رجب پر مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ نبیل رجب کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔ خلیفی عدالت نے کل زینب الخواجہ اور معصومہ السید کے مقدمے کی سماعت 24 جون تک ملتوی کردی ہے۔ الدرازی نے کہا: انسانی حقوق کونسل نے اپنی رپورٹ میں آل خلیفہ حکومت کو 174 نکتوں کا نوٹس دیا ہے جن سے معلوم ہوتے ہے کہ اس چھوٹے سے مجمع الجزائر پر مسلط مطلق العنان حکومت دنیا کی سب سے بڑی ڈکٹیٹر حکومت ہے جبکہ جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کی رپورٹ خلیفی قاتلوں پر بحرینی شہداء کے خون کی فتح ہے۔ انھوں نے کہا: امریکہ آل خلیفہ کے تمام غیر انسانی اقدامات کا ذمہ دار ہے جن میں اندھادھند گرفتاریاں، لوگوں کا تعاقب، بحرینی قوم کے حقوق کی پامالی اور احتجاجی مظاہروں کو کچلنا، شامل ہیں۔ انھوں نے کہا: اگر امریکہ آل خلیفہ حکومت کی حمایت نہ کرتا تو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا کیس سلامتی کونسل کے حوالے کرسکتی تھی اور اس کو صرف نوٹس دینے اور متوجہ کرانے تک محدود نہیں کیا جاسکتا تھا۔ الدرازی نے کہا: بحرینی عوام قتل و غارت، خوف و ہراس، ظالمانہ مقدمات وغیرہ سے خائف ہوئے بغیر اپنے جائز حقوق حاصل کرنے کے لئے اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے اور عوام اپنا پرامن احتجاج مسلسل جاری رکھیں گے۔ ــ آل خلیفہ نے نبیل رجب کو ضمانت پر رہا کردیابحرین کے جمہوریت پسند عوام کا دباؤ رنگ لایا اور آل خلیفہ حکومت نے بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے سربراہ ڈاکٹر نبیل رجب کو ضمانت پر رہا کردیا۔/ نبیل رجب: مجھ پر لگائے گئے الزامات مکارانہ ہیں؛ آل خلیفہ کے خلاف جدوجہد جاری رکھوں گا۔ اطلاعات کے مطابق آل خلیفہ حکومت نے بحرین کے انقلابی اور جمہوریت پسند عوام کے دباؤ کے تحت انسانی حقوق مرکز کے سربراہ نبیل رجب کو ضمانت پر رہا کردیا ہے۔ نبیل رجب کے وکلاء نے اعلان کیا ہے کہ خلیفی عدالت نے ڈاکٹر نبیل رجب کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا اور وہ رہا ہوگئے۔ قبل ازیں اعلان ہوا تھا کہ آج خلیفی عدالت نبیل رجب اور جمعیۃ العمل الاسلامی کے قائدین پر مقدمے کی سماعت کرے گي۔ نبیل رجب 5 مئی 2012 کو بیروت سے ملک واپسی کے وقت منامہ ائیرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا۔ رجب کے وکیل نے کہا کہ انھوں نے اپنے آپ پر لگائے گئے الزامات عدالت میں مسترد کردیئے ہیں چنانچہ ان پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکا اور انہیں رہائی مل گئی۔ نبیل رجب کو وکیل محمد الحبشی نے کہا: خلیفی عدالت نے نبیل رجب پر غیرقانونی اجتماع منعقد کرنے کا الزام لگایا لیکن انھوں نے یہ الزام مسترد کرتے ہوئے اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیا چنانچہ خلیفی جج کے پاس انہیں قید میں رکھنے کے لئے کوئی جواز باقی نہيں رہا اور انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا لیکن انہيں عدالتی کاروائی مکمل ہونے تک بیرون ملک سفر کرنے سے روکا گیا ہے۔ خلیفی اٹارنی جنرل نے الزام لگایا تھا کہ نبیل رجب سماجی ویب سائٹوں کے ذریعے آل خلیفہ خاندان کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان ہی ویب سائٹوں کے ذریعے عوام کو احتجاجی دھرنوں اور ریلیوں کے لئے بلاتے رہے ہیں۔  5 مئی کو ان کی گرفتاری کے بعد بحرینی عوام نے ان کی رہائی کے لئے وسیع مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی ان کی گرفتاری پر سخت رد عمل ظاہر کیا۔ ڈاکٹر نبیل رجب نے گذشتہ بدھ کے دن بھی خلیفی عدالت میں کہا تھا کہ خلیفی عدالت کی طرف سے ان پر لگائے گئے الزامات مکارانہ ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ عدالت میں موجود بعض عینی شاہدین نے کہا کہ نبیل رجب نے عدالت میں کہا کہ انھوں نے بیان کی آزادی کے حوالے سے اپنے استحقاق کا استعمال کیا ہے اور ان سے کوئی جرم سرزد نہيں ہوا ہے اور چونکہ وہ انسانی حقوق کے سلسلے میں سرگرم عمل ہیں اسی لئے انسانی حقوق پامال کرنے والوں نے ان پر بے جا الزامات لگائے ہیں اور مکر و فریب سے کام لیا ہے۔ نبیل رجب خود بھی بلند پایہ وکیل ہیں اور ان کے دفاع کے لئے عدالت میں 54 وکلاء موجود تھے۔ بدھ کے روز سماعت کے دوران وکیل استغاثہ کے پاس کہنے کے لئے کوئی بات اور لگانے کے لئے کوئی الزام باقی نہ رہا تو کہنے لگآ: نبیل رجب نے سیکورٹی فورسز کی توہین کی ہے۔  ــ بحرین میں انسانی حقوق کی پامالی؛ خلیفی وزراء جھوٹے ہیںبحرینی سیاستدان نے انسان حقوق کے سلسلے میں آل خلیفہ کے وزیر داخلہ کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا: خلیفی وزراء جھوٹ بول رہے ہیں بحرین میں انسانی حقوق کی صورت حال بحرانی اور افسوسناک ہے۔ اطلاعات کے مطابق بحرینی سیاستدان و قلمکار "عیسی السیار" نے کہا ہے کہ بحرین میں انسانی حقوق کا کیس ایک نہایت پیچیدہ کیس ہے اور  آل خلیفہ حکومت نے البسیونی کی سربراہی میں ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو اس کیس کے بارے میں تحقیق کی ذمہ داری سونپی ہے اور اس کمیٹی نے ایک رپورٹ میں بالکل شفاف انداز سے آل خلیفہ حکومت کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کا اعتراف کیا ہے۔انھوں نے کہا: البسیونی کی کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت سے وابستہ سیکورٹی اداروں نے گرفتار شدہ افراد اور احتجاج کرنے والے شہریوں کے حقوق کو ضائع کیا ہے اور بعض مواقع پر اسیروں کو اس حد تک ٹارچر کیا ہے کہ وہ جیلوں میں ہی اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھوچکے ہیں۔ السیار نے آل خلیفہ کے وزیر داخلہ شیخ راشد بن عبداللہ آل خلیفہ کے جھوٹے دعؤوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: کہ اگر وزیر داخلہ کی بات درست ہے اور بحرین کے اندرونی شہری ادارے اور ملکی و بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے یکطرفہ دعوے کررہے ہيں تو وہ ہمیں یہ بتائیں کہ بحرین پر مسلط حکومت کے حکم پر تشکیل پانے والی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کا وہ کیا کرنا چاہیں گے جبکہ اس کمیٹی کے سربراہ البسیونی نے اپنی رپورٹ خلیفی بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ اور حکومت کے دیگر سینئر اہلکاروں کے سامنے پڑھ کر سنائی اور انہیں اپنی تجاویز پیش کیں؟! خلیفی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ انسانی حقوق کے اداروں نے حکومت بحرین کے بارے میں یکطرفہ رپورٹیں شائع کی ہیں۔خلیفی وزیر داخلہ نے پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے جنیوا میں منعقدہ انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ "بحرین میں کوئی سیاسی قیدی نہيں ہے"!۔السیار نے خلیفی وزیر داخلہ کے ان دعؤوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جنیوا میں انسانی حقوق کونسل میں شرکت کرنے والی بین الاقوامی ایجنسیاں اور مندوبین بحرین کی جیلوں میں قید سیاسی قیدیوں کے بارے میں بہت زيادہ معلومات رکھتے تھے اور انہیں معلوم تھا آل خلیفہ حکومت بحرین میں کیا کررہی ہے چنانچہ وزیر داخلہ کو اس بین الاقوامی اجلاس میں حقیقت پر مبنی موقف اپنانا چاہئے تھا۔ــ عبدالہادی الخواجہ نے بھوک ہڑتال ختم کردیبحرین کے اسیر قانوندان اور سیاسی راہنما عبدالہادی الخواجہ نے چار مہینوں سے بھوک ہڑتال کرنے کے بعد اپنے اہل خانہ، رشتہ داروں اور پرستاروں کی درخواست پر ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آل خلیفہ کی عدالت نے عبدالہادی الخواجہ کو آل خلیفہ مطلق العنانیت کے خلاف &quo